بنگلورو:3/اگست(ایس او نیوز) گجرات میں راجیہ سبھا انتخابات کے مرحلے میں کانگریس امیدوار احمد پٹیل کو ہرانے کے مقصد سے بی جے پی کی طرف سے اراکین اسمبلی کی خرید وفروخت کو روکنے کیلئے کانگریس قیادت کی طرف سے وہاں کے کانگریس اراکین اسمبلی کو بنگلور کے ایگل ٹن ریسارٹ میں ٹھہرایا گیا تھا، اور ان کی میزبانی کی ذمہ داری وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار کو سونپی گئی تھی، تاہم عین اسی وقت مرکزی حکومت کی طرف سے ان کے ٹھکانوں پر چھاپے مارنے اور انہیں نظر بند کردئے جانے کے سبب گجرات کے اراکین اسمبلی میں خوف وہراس پھیل گیا ہے اورانہوں نے اب واپس اپنی ریاست لوٹنے کا ارادہ کرلیا ہے۔
بتایاجاتاہے کہ ان میں سے بعض اراکین اسمبلی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مودی حکومت گجرات میں ان کے مقامات کو بھی نشانہ بناسکتی ہے اور ان کے ٹھکانوں پر بھی انکم ٹیکس کے چھاپے پڑ سکتے ہیں جس کی وجہ سے ان لوگوں نے واپس لوٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اراکین اسمبلی کی خریدوفروخت کو روکنے کیلئے کانگریس اعلیٰ کمان کی ہدایت پر ڈی کے شیوکمارنے ان تمام اراکین اسمبلی کی میزبانی اپنے ذمہ لی تھی، تاہم بی جے پی حکومت نے ان اراکین اسمبلی کو کمزور کرنے کیلئے ڈی کے شیوکمار کو ہی نشانہ بنادیا۔ ان اراکین اسمبلی کو یہ بھی خدشہ ہے کہ دوبارہ ایگل ٹن ریسارٹ پر محکمۂ انکم ٹیکس کا چھاپہ پڑسکتا ہے، کل ایگل ٹن ریسارٹ پر انکم ٹیکس افسران کی آمد کے بعد بعض حلقوں میں یہ بھی کہاجارہاہے کہ ان افسران نے گجرات کے تمام کانگریس اراکین اسمبلی کو دھمکی دی ہے کہ فوری طور پر وہ گجرات لوٹ جائیں اور وہاں کانگریس امیدوار احمد پٹیل کی شکست یقینی بنائیں۔ بصورت دیگر ان کے ٹھکانوں پر بھی چھاپے مارے جائیں گے۔ محکمۂ انکم ٹیکس کی اس دھمکی سے خوفزدہ اراکین اسمبلی نے فوری طور پر اپنے ٹھکانوں کو لوٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے، اس دوران ریسارٹ کے اطراف سخت پولیس بندوبست برقرار رکھا گیا ہے۔ کسی کو بھی بغیر تلاشی کے اندر جانے نہیں دیا جارہاہے۔